ایف بی آر کو دو علیحدہ محکموں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ

ایف بی آر کو دو علیحدہ محکموں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ


ایف بی آر کو دو علیحدہ محکموں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ
اسلام آباد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو دو علیحدہ محکموں میں تقسیم کیا جا رہا ہے ، جن میں سے ایک ٹیکسوں کی براہ راست وصولی اور دوسرا بالواسطہ ٹیکسوں کا ذمہ دار ہو گا۔ سینئر حکام کے مطابق اگر دو بورڈز نہ بنادیئے گئے تو کسٹمز سروس میں سے ڈپٹی چیئرمین ایف بی آر کو بالواسطہ ٹیکسوں سے متعلق معاملات سونپ دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیاگیا ہے اور ان میں سے ایک پر بہت جلد عملدرآمد ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مختلف محکموں کی جانب سے تجاویز اوران کے موٴقف پر غور کیاگیا، جنہیں پاکستان کسٹمز گروپ ری اسٹرکچرنگ پلان میں ضروری تبدیلیوں کے لئے منیجمنٹ ونگ کو بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ لاہور، فیصل آباد، کراچی، پشاور، کوئٹہ اوردیگر شہروں کے کلکٹریٹس نے بالواسطہ ٹیکسوں کی وصولی کیلئے علیحدہ بورڈ کے قیام کی حمایت کی ہے۔ وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر شعیب سڈل نے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ اور افغانستان میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کیلئے مختلف اشیاء سمیت اسلحے سے بھرے ہزاروں کنٹینرز کی چوری اور گمشدگی پرسپریم کورٹ کو اپنی ابتدائی رپورٹ میں بہتر انتظامات کے لئے ایف بی آر کو دو بورڈز میں تقسیم کرنے کی تجویز دی۔ جن میں سے ایک کسٹمز سے متعلق امور کا ذمہ دار ہو تو دوسرا انکم ٹیکس ، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی جسے معاملات نمٹائے ۔ انہوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ اگر اس مرحلے پردو علیحدہ بورڈز تشکیل دیا جانا ممکن نہ ہو تو ایک اہل اور ایماندار سینئر افسر کو ڈپٹی چیئرمین ایف بی آر بنایا جائے۔ جس سے کسٹمز میں منیجمنٹ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ڈاکٹر شعیب سڈل نے یہ بھی تجویز کیا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن کو بھی ٹیکس چوروں اورمحکمہ کسٹمز میں کالی بھیڑوں پر ہاتھ ڈالنے کے لئے اَپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی محتسب نے اسمگلنگ کی تعریف کو وسعت دے کر ٹرانزٹ گڈز سے چوری اشیاء کو بھی اسمگلنگ کے زمرے میں لانے کی تجویز دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ کسٹمز سے متعلق امور کی نگرانی کیلئے ڈپٹی چیئرمین ایف بی آر بنایا جاتا ہے تو اسے مکمل بااختیار ہونا چاہئے اور اسے چیئرمین ایف بی آر کا ماتحت تصور نہیں کیاجانا چاہئے، ورنہ وہ بھی ایف بی آر کے دیگر ارکان کی طرح چیئرمین ہی کو جواب دہ ہو گا۔